بھٹکل 27/ستمبر (ایس اونیوز) بھٹکل میں حال ہی میں چارج سنبھالنے والے نئے پی ایس آئی کوسومادھرا اور اُن کے ساتھیوں کو عوام نے اُس وقت آڑے ہاتھ لیا جب انہوں نے شہر کے سلطانی محلہ میں چیکنگ کے نام پر گاڑیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ مومن اسٹریٹ جانے والی سڑک پر پتھررکھ کر روڈ کو بند کردیا۔ اطلاع ملتے ہی قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران موقع واردات پر پہنچنے کے ساتھ ساتھ فوری ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس دفتر پہنچ کر واقعے کی شکایت کرتے ہوئے پولس کے اس طرح کے کرتوتوں کی سخت مذمت کی۔
اطلاع کے مطابق بدھ صبح 8:30 بجے پی ایس آئی کوسومادھرا کی قیادت میں پولس کے کم و بیش 25 اہلکاروں نے سلطان اسٹریٹ جانے والے تمام راستوں کی اس انداز سے ناکہ بندی کردی کہ عوام کو لگا کہ یہاں کوئی بہت بڑا چھاپہ پڑنے والا ہے۔ جگہ جگہ پولس کو دیکھ کر عوام میں خوف و دہشت پھیل گئی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولس کے اہلکار جامعہ اسٹریٹ میں مکتب جامعہ کے باہر، گلف مارکٹ کے باہر، ڈاکٹر سلیم کی کلینک کے باہرچھپ چھپ کر کھڑے تھے، جبکہ سلطان مسجد کے باہر پی ایس آئی کچھ اہلکاروں کے ساتھ اپنی جیپ کو لے کرکھڑا تھا۔ جب سواریوں کو روک روک کر کاغذات اور ہیلمٹ کی چیکنگ شروع ہوئی تو عوام میں دہشت پھیل گئی۔ ایسے میں سلطان اسٹریٹ سے مومن اسٹریٹ جانے والے روڈ پر پتھرڈال کر رکاوٹ کھڑی کردی گئی تھی، جس پر عوام بھڑک اُٹھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سلطان یوتھ ویلفئیر اسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے اسپورٹس ڈائرکٹر عبدالسمیع میڈیکل اپنے ساتھیوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پی ایس آئی کو آڑے ہاتھ لیا۔ پی ایس ائی کے ساتھ بات چیت اور زبانی جھڑپوں کی وڈیو کلپ جب مقامی لوگوں نے سوشیل میڈیا پر وائرل کی تو شہر کے عوام میں سخت ناراضگی پائی گئی اور پل بھر میں متعلقہ مقام پر کافی لوگ جمع ہوگئے۔خبر ملتے ہی قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے جنرل سکریٹری سمیت دیگر ذمہ داران بھی موقع واردات پر پہنچ کر ڈی وائی ایس پی سمیت سرکل انسپکٹر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اُنہیں جائے وقوع پر بلایا۔
کچھ ہی دیر میں سرکل پولس انسپکٹر گنیش پولس کی زائد فورس لے کر جائے وقوع پر پہنچ گئے، جہاں ذمہ داران نے اُنہیں آڑے ہاتھ لیتے ہوئے پی ایس آئی کی کرتوتوں پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ یہاں ذمہ داران نے واقعے کے تعلق سے انسپکٹر کو تفصیل سے بتایا کہ پی ایس آئی یہاں آکر گاڑیوں کی چیکنگ کے نام پر کس طرح مسلمانوں میں دہشت پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ پی ایس آئی صرف مسلم نوجوانوں کی گاڑیوں کو پکڑ رہا ہے اور دوسری کمیونٹی کے لوگوں کو جانے دے رہا ہے۔ جب عبدالسمیع نے روڈ کو بلاک کرنے کے تعلق سے انسپکٹر کو بتایا تو پی ایس آئی نے پہلے اس بات کو مکرنے کی کوشش کی اور اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی، اس موقع پر عبدالسمیع نے قریب میں واقع ایک رہائش گاہ کے باہر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیمرے میں پی ایس آئی کی سبھی کرتوتیں ریکارڈ ہوچکی ہیں اور پتھر کس نے رکھے تھے اور روڈ کو بلاک کرنے والے کون تھے، سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہونے کی بات معلوم ہوتے ہی انسپکٹر نے معاملے کو رفع دفع کرتے ہوئے پولس چیکنگ کو ہٹادیا اور سبھوں کو واپس جانے کی ہدایت دیتے ہوئے کاروائی کو بند کردیا۔ واقعے کی وڈیو اور فوٹوز جیسے ہی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی، لوگوں میں سخت ناراضگی پھیل گئی۔
واقعے کے فوری بعد تنظیم کے ایک وفد نے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری کی قیادت میں بھٹکل ڈی وائی ایس پی ویلنٹائن ڈیسوزا کے دفتر پہنچ کر ملاقات کرتے ہوئے واقعے کے تعلق سے سخت ناراضگی ظاہر کی اور متعلقہ آفسر پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔
وفد میں شامل ممبران نے الزام لگایا کہ نئے پی ایس آئی کے کرتوت سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی پرانی دشمنی نکال رہا ہے، ممبران نے اُسے راست نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ اُسے بھٹکل میں رہنا ہے تو ٹھیک طرح سے اپنی ڈیوٹی انجام دیں ورنہ اپنا ٹرانسفر کرائے۔ وفد نے پی ایس آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے ۔

وفد نے ڈی وائی ایس پی کو پی ایس آئی کے خلاف عوام کی جانب سے ملی ہوئی الگ الگ شکایتوں کو بھی پیش کیا کہ کس طرح یہ آفسرمسلمانوں کو ہراساں کرنے میں لگا ہوا ہے۔ وفد نے پی ایس آئی کے ڈرائیور کے خلاف بھی شکایت کی کہ وہ کس طرح عوام کے ساتھ پیش آتا ہے۔ وفد نے ڈی وائی ایس پی کو انتباہ دیا کہ یا تو وہ خود اس آفسرکا تبادلہ کرے ورنہ ہمیں اعلیٰ آفسران کو شکایت کرکے یہاں سے ہٹانا پڑے گا۔ وفد نے بتایا کہ آفسر صرف مسلم لڑکوں کی سواریوں کو ہی روکتا ہے، اس سے ایک روز قبل بندر روڈ پر بھی اس آفسر نے صرف مسلم لڑکوں کو روک کر کاغذات کی جانچ کرنے کی شکایتیں ملی ہیں جبکہ دیگر کمیونٹی کے لوگوں کو جانے کے لئے کہتا ہے۔
وفد نے ڈی وائی ایس پی کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے پر حادثات زیادہ ہوتے ہیں، لوگ تیزی کے ساتھ بائک چلاتے ہیں، ہیلمٹ نہیں پہنتے، وہاں بھلے چیکنگ کی جائے اورضروری کاروائی کی جائے، مگر مسلم محلوں میں گھس کراور رہائشی علاقوں میں چیکنگ کے نام پر نمازیوں کو روکنا، جمعہ نماز کے موقعوں پر چیکنگ کے لئے کھڑے ہونا اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
وفد نے ڈی وائی ایس پی کو دوسرے شہروں میں آر۔ٹی ۔او آفسران کی سواریوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کی مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح وہ گلے میں ہاتھ ڈال کر نہایت دوستانہ انداز میں لوگوں کو ہیلمٹ پہننے کی ہدایات دیتے ہیں، مگر یہاں پولس غنڈہ گردی کرتی ہوئی نظر آتی ہے، جس کی روک تھام نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہے کہ بھٹکل میں حالات نہایت سازگار اور پرامن ہیں مگر پولس اس طرح کی غلط حرکتیں کرتے ہوئے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وفد نے بھٹکل میں بڑھ رہے ڈرگس کے معاملات پر روک تھام کے لئے خصوصی توجہ دینے کی بھی بات کہی اور کہا کہ ڈرگ مافیا پر لگام کسنا سب سے زیادہ ضروری ہے، مگر پولس اہم معاملات کو نظر انداز کرکے مسلم نوجوانوں کو کس طرح ہراساں کیا جائے ، اُس کے پیچھے سرگرم نظر آرہی ہے۔
ڈی وائی ایس پی نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس تعلق سے پی ایس ائی کو ضروری ہدایات دیں گے اوراس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ آئندہ اس طرح کی وارداتیں رونما نہ ہوں۔
تنظیم وفد میں نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری، میونسل چیف محمد صادق مٹا، امتیاز اُدیاور، صدیق ڈی ایف، مولوی عزیر الرحمن ندوی، عبدالرحیم و دیگر موجود تھے۔